نئی دہلی، 6؍دسمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )دہلی کی ایک عدالت نے آل انڈیامجلس اتحادالمسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کیلئے ایک مجرمانہ شکایت پر کارروائی رپورٹ داخل کرنے کے لئے اور وقت دینے کا پولیس کی درخواست آج قبول کرلی۔دراصل اویسی کے خلاف غداری اور مختلف فرقوں کے درمیان دشمنی پیدا کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ منیش مرکان نے دہلی پولیس کو وقت دے دیا اور اس معاملے میں اگلے سال پانچ مارچ کو رپورٹ دائر کرنے کا اسے ہدایت دی۔شمال مشرق دہلی کے کراول نگر پولیس تھانہ نے اکتوبر میں عدالت میں ایک عرضی دائر کرکے کہا تھا کہ معاملے کو دیکھ رہے ذیلی انسپکٹر کاتبادلہ ہوگیاہے اور اس معاملے کو ایک اور افسر کو تفویض کیا گیا ہے۔ایسی صورت میں اس معاملے میں مزیدتحقیقات کیلئے اوروقت مانگا گیا تھا۔اس سے پہلے عدالت نے پولیس کوسوراج جنتا پارٹی کے برجیش چند شکلا کی طرف سے ریکارڈ کرائی گئی شکایت پر کارروائی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی تھی۔شکلا نے آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے رہنما کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔شکایت میں دعویٰ کیاگیاتھاکہ ان پرکیس واپس لینے کیلئے دباؤڈالاجارہاہے۔انہوں نے عدالت سے کہا تھا کہ پہلے کے حکم کے مطابق انہوں نے اویسی کے مبینہ قابل اعتراض بیان کی ریکارڈنگ اوردیگردستاویزات کی کاپی مہیا کرائی ہے۔اس سے پہلے پولیس نے ایک اسٹیٹس رپورٹ داخل کرکے کہا تھا کہ شکایت کنندہ نے13مارچ کو اویسی کے دیے بیان کی ریکارڈنگ کی کاپی مہیانہیں کی ہے۔پٹیشن میں آئی پی سی کی دفعہ(124A(غداری)اور153 A(مذہب، نسل وغیرہ کی بنیادپرمختلف کمیونٹیزکے درمیان دشمنی کو فروغ دینا)کے تحت پولیس کو یہ ہدایات دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس نے الزام لگایاہے کہ حیدرآبادسے ممبرپارلیمنٹ کی حرکت ہندوستان کے تئیں مخلص نظرنہیں آتی ہے اور یہ ملک کی شبیہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے اوران کابیان غداری کے الزام کے تحت آتاہے۔شکلا نے لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر کے باہر نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا پرمبینہ طورپر سیاہی پھینکی تھی۔